سیلفی اسٹینڈ
ازقلم احمد حسن نوری
حال ہی میں, میں اور میرے دوست شالیمار ٹاؤن منڈی بہاوالدین گے۔ اس ٹاؤن میں جانے کی ایک خاص وجہ امریکہ کا "مجسمہ آزادی(The Statue Of Liberty)"تھا, جو کہ امریکہ میں نہ ہو کہ منڈی بہاوالدین کے چھوٹے سے ٹاؤن میں پوری شان سے کھڑا تھا۔ میں اُسے دیکھ کر حیران ہوا اور میری حیران نظریں مجسمے پر محسوس کرتے میرے دوست حمزہ نے اپنے موبائل سے ہم سب کی ایک بہترین سیلفی لی تھی۔ اُسے عادت ہے کسی بھی اچھی جگہ جانے پر وہ تصویریں بناکر اسٹیٹس اپڈیٹ کرتا ہے۔ یہ تو میرے ایک دوست کی عادت ہے مگر دنیا میں تقریبًا آٹھ ارب سے زائد لوگ آباد ہیں کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ دنیا کے حسین ترین مقام پر بھی چلے جائیں, آپ کو لوگ وہاں بھی تصویریں بناتے دیکھائی دیں گے۔ آج کے کالم کا ٹاپک ہے "سیلفی اسٹینڈ" جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ ہم اس کالم میں سیلفیز پر بات کریں گے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اپنی تصویر بنانا یا سیلفی کوئی نئی چیز ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے سیلفی لفظ پہلی مرتبہ سنہ 2013 میں اکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں متعارف ہوا۔ (یہ وہ وقت تھا جب میری نئی نئی فیس بک آئی ڈی بنی تھی۔) اور کچھ ہی عرصہ میں یہ لفظ پوری دنیا میں پھیل گیا۔ لیکن سیلفیاں بنانا اتنا ہی پرانا ہے جتنی کے خود فوٹوگرامی دراصل دنیا میں پہلی سیلفی 1839 میں ایک امریکی شہری روبرٹ کارنیلیئس نے بنائی تھی۔
انسان سیلفیاں بناتا کیوں ہے؟
میرے دوست کو بہت بری لت ہے, وہ خاصہ سیلف اوبیسڈ (خود پسند) آدمی ہے۔ بعض اوقات اس کی اس دیکھ دیکھاوے کی عادت سے مجھے خاصی چڑ ہوتی ہے۔ یہ ایک خاص انسانی رویہ ہے, اسی عجیب و غریب انسانی رویے کہ بابت سگمنڈ فرائڈ کہتے ہیں۔
"مجھے خود سے پیار ہے, دیکھیں گے تو آپ کو بھی ہو جائے گا۔"
فرائڈ کسی تعارف کے محتاج نہیں,آپ نے نہ صرف انسانی عادات اور حرکات کے سائنسی مطالعہ کی بنیاد رکھی بلکہ آسٹریا میں پیدا ہونے والے اس ماہر نفسیات نے کئی اصطلاحوں کو عام لوگوں میں مقبول بنا دیا, جیسے ایگو(شعوری ذہن) ان کانشس (لاشعور) اور تھیراپی (نفسیاتی علاج) وغیرہ شامل ہیں۔ انہی اصطلاحوں میں سے ایک اصطلاح ناسسزم یاں نرگسیت بھی شامل ہے۔
(نرگسیت کا مطلب خود پسندی یعنی خود سے بہت زیادہ پیار کرنا ہے۔)
یونانی دیو مالائی کہانیوں کے مطابق نارسیسس نامی ایک نوجوان ایک دن دریا کے کنارے چلا جا رہا تھا تو اُسے پانی پینے کا خیال آیا۔ جب وہ پانی پینے نیچے جھکا تو اُسے اپنا عکس دیکھائی دیا۔ وہ اپنی خوبصورتی کی تعریف کرنے میں اتنا محو ہو گیا کہ اپنے اردگرد سے بالکل بےخبر ہو گیا۔
آخر وہ خود کو گلے لگانے کی خواہش میں دریا میں اترا اور ڈوب گیا۔
فرائڈ کا کہنا ہے کہ تھوڑی سی خود پسندی ایک قدرتی بات ہے۔ لیکن جب کوئی انسان خود کو اس قدر چاہنے لگے کہ اُسے کوئی دوسرا اچھا ہی نہ لگے تو یہ خودپسندی ایک نفسیاتی مرض بن جاتا ہے۔ اور مزے کی بات عورتوں کی نسبت مرد زیادہ نرگسیت کا شکار ہوتے ہیں حالانکہ خواتین مردوں کی بانسبت زیادہ سیلفیاں لیتی اور پوسٹ کرتی نظر آتی ہیں۔
فرائڈ نے انسانی نفسیات سے متعلق نظریے پیش کیے ہیں ان کی اکثریت کی بنیاد ان کا اپنا مشاہدہ تھا۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آج کل جس قدر معلومات ہم انسانی عادتوں کے حوالے سے جمع کر سکتے ہیں وہ فرائڈ جیسے ماہر کے لیے بہت زیادہ دلچسپی کا سامان ہوتیں۔ اگر آج فرائڈ زندہ ہوتے تو یقینًا سیلفی کے رجحان کا تجزیہ کرنا پسند کرتے۔ وہ اس بات کا بھی گہرائی میں مشاہدہ کرتے کہ زیادہ تر لوگ سوشل میڈیا پر سلیفیاں اس لیے نہیں لگاتے کہ انھیں خود سے پیار ہوتا ہے بلکہ اس لیے لگاتے ہیں کہ انھیں دیکھنے والا ہر شخص ان سے پیار کرے۔ ( میرا دوست بھی یہی چاہتا ہے کہ لوگ اُس سے متاثر ہوں اُس کی وجاہت و اسٹیٹس سے مرغوب نظر آئیں۔)
توجہ حاصل کرنے کی خواہش
ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ فرائڈ جب انیسویں صدی کے آخری برسوں میں نرگسیت جیسے موضوعات پر تحقیق کر رہے تھے تو جنسی رجحانات اور جنسی میلان(Sexual incliations) کے اظہار پر بہت دباؤ ہوا کرتا تھا۔
ویانا کے اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے فرائڈ کے مریضوں کی اکثریت 'ہسٹریکل پیرالیسز یاں 'ہیجانی فالج' میں مبتلا تھی۔ ان دنوں خواتین اور مردوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھا جاتا تھا اور انھیں یہ پڑھایا جاتا تھا کہ جنسی میلان کا اظہار کرنے پر انھیں شرمندگی ہو گی۔
(ہیجانی فالج ایک ایسی کیفیت کو کہتے ہیں جس میں انسان کسی واضح جسمانی وجہ کے بغیر اٹھ کر چل نہ سکے۔)
فرائڈ کا خیال تھا کہ ان خواتین کے نہ چلنے پھرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگوں کی توجہ کا مرکز نہیں بننا چاہتی تھیں۔
لیکن لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کیا برائی ہے؟ اپنی تعریف کسے اچھی نہیں لگتی؟ اور یہ بات بھی سچ ہے کہ ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں توجہ کی کتنی ضرورت پڑتی ہے تو بہتر نہیں کچھ سیلفیاں سوشل میڈیا پر شیئر کر دی جائیں؟
خیر اپنی ذاتی زندگی سوشل میڈیا پر شیئر کرنا کوئی صحتمندانہ علامت نہیں, یہ نہ صرف تصویریں لگانے والے کے لیے غیر صحتمندانہ سرگرمی نہیں بلکہ دیکھنے والے پر بھی بہت سے منفی اثر ڈالتی ہے۔
منفی انسان
اپنی تصویر بنانا اور گھنٹہ لگا کر بڑی احتیاط سے ایڈیٹ کر کے سوشل سائٹس پر لگانا ایک کھٹن کام ہے۔
سوشل میڈیا کی مشہور ویب سائیٹ (انسٹاگرام) پر لوگوں کی مختلف اقسام کی سیلفیز اور ایڈیٹڈ تصویریں دیکھنے کو ملتی ہیں جو کہ زیادہ تر فیک ہوتی ہیں بلکہ انفلوینسرز کے پہنے ہوئے کپڑے بھی بعض اوقات ان کے اپنے نہیں ہوتے بلکہ رینٹ پر لیے ہوتے ہیں۔
حالیہ تحقیق میں یہ دیکھا گیا ہے کہ جب ہم اس قسم کی تصویریں دیکھتے ہیں ہمیں حسد ہوتا ہے ہم خود کو اکیلا زیادہ غیر محفوظ اور کسی کمی کا شکار محسوس کرتے ہیں۔ فرائڈ کے الفاظ میں یہ چیز ہمارے اعصاب پر اثر کرتی ہے اور ہم زیادہ نیوروٹک ہو جاتے ہیں۔
فرائڈ کے بقول 'نفسیاتی تجریے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس قسم کے اعصابی خلل کو عام انسان خوشی سے تبدیل کیا جائے'
اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر دیکھائی دینے والی زندگی اصلی ہوتی ہے مگر ایسا نہیں.... یہاں زیادہ تر لوگ فیک ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی لوگوں کو لائکس فوبیا بھی ہوتا اس پر ہم اگلے کالم میں تفصیل سے بات کریں گے۔
اور اب آپ جب بھی سیلفی اپلوڈ کریں تو نرگسیت کا شکار قطعی نہ ہوں اور یہ سوچیں کہ دنیا سیلفیز کے علاوہ بھی بہت خوبصورت ہے۔

Comments
Post a Comment